 |
|
|
|
| |
 |
Menu |
 |
|
|
|
 |
Latest Urdu Poetry | اردو شآعری |
 |
 |
کیا میں بھی |
 |
| |
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوئے چشمکِ انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیےلیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفسِ باز پسیں تھا
اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جودرد و الم تھا سو کہے تُو کہ کہ وہیں تھا
جانا نہیں کچھ جز غزل آکر کے جہاں میں
کُل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا
جن لوگوں کے کل مُلک یہ سب زیرِ نگیں تھا
مسجد میں امام آج ہوا آ کے کہاں سے
کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا
|
|
 |
غزل از نواب داغ دہلوی |
 |
| |
غزل از نواب داغ دہلوی
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
دل لے کے مفت، کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹی شکائیتیں ہوئیں، احسان تو گیا
دیکھا ہے بت کدہ میں، جو اے شیخ، کچھ نہ پوچھ
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا
ڈرتا ہوں دیکھ کر دلِ بے آرزو کو میں
سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو، مہمان تو گیا
افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اسے جتا تو دیا، جان تو گیا
ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا
|
|
|
|
|